Learn from Hadith
Guidance from Hadith
احادیث نبوی ﷺ
Explore authentic Hadiths of Prophet Muhammad ﷺ to strengthen your faith and apply his teachings in your daily life.
عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى يَعْبُدُوا الْأَوْثَانَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔
Thawban (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said: The Day of Judgement will not be established until some tribes of my ummah join the polytheists and worship idols. And in my ummah soon thirty liars (claimers) will emerge, each of them will imagine that he is a Prophet, and I am ‘Khatam al-Nabien’ and there will be no (other) Prophet ﷺ after me.
ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں اور بتوں کی پرستش کریں۔ اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے (دعویدار) نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، اور میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی (دوسرا) نبی نہیں۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ، وَلِوَاءُ الْحَمْدِ بِيَدِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ
Abu Saeed Khudri (رضی اللہ عنہ) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: I am the leader of the sons of Adam, and it is no boast. I will be the first one for whom the earth will be split open on the Day of Judgement, and it is no boast. I will be the first to intercede and the first whose intercession will be accepted, and it is no boast. The banner of praise will be in my hand on the Day of Judgement, and it is no boast.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں (بلکہ حقیقت ہے)۔ اور میں وہ پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے قیامت کے دن زمین پھٹے گی، اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔ اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی، اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔ اور قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا، اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ۔
The Prophet ﷺ said: Messengership and prophethood have ceased. So, after me there will be no messenger and prophet.
رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، لہذا میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ ہی کوئی نبی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا، وَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الْآخِرَةِ۔
Abu Hurairah (رضی اللہ عنہ) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: Every prophet is given a supplication (that is fulfilled), and I want to save my supplication in order to intercede for my Ummah on the Day of Judgement.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ہر نبی کو ایک دعا حاصل ہوتی ہے (جو قبول کی جاتی ہے) اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ كَلَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامًا فَصْلًا يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ سَمِعَهُ۔
Ummul Muminin Aisha (RA) said that every word of the Prophet’s ﷺ speech used to be distinct (and clear), whoever listened to him could understand (what he said).
اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی گفتگو کا ہر لفظ الگ الگ (اور واضح) ہوتا تھا، جو بھی اسے سنتا سمجھ لیتا۔
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِّي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ۔
Sahl bin Saad (رضی اللہ عنہ) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: I am your predecessor (forerunner) at the Pool (of Kawthar). Whoever will pass by there, he will drink from it and whoever drinks from it will never be thirsty. There will come to me some people whom I will recognize, and they will recognize me, but they will be removed from me (These will be the people who are going to be apostates after your ﷺ death and who are going to be innovators in religion after your ﷺ death.)
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: میں تم سے پہلے حوض (کوثر) پر پہنچوں گا، جو میرے پاس سے گزرے گا وہ پیئے گا، اور جو پیئے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ میرے پاس کچھ لوگ آئیں گے جنہیں میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، پھر مجھے اور ان کے درمیان حائل کر دیا جائے گا (یہ وہ لوگ ہوں گے جو آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی وفات کے بعد مرتد ہو جائیں گے اور دین میں بدعتیں ایجاد کریں گے)۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، سَمِعَ سَلَّامَ بْنَ مِسْكِينٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ وَلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا أَلَا صَنَعْتَ۔
Anas (RA) narrated that I served the Prophet ﷺ for ten years, but he ﷺ never said ouch to me and never said why I did such and such a thing and did not do such and such a thing.
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ فَمَكَثَ (بِمَكَّةَ) ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فَهَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَكَثَ بِهَا عَشْرَ سِنِينَ، ثُمَّ تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔
Ibn Abbas (RA) narrated that revelation was sent to the Messenger of Allah ﷺ when he was forty years old. He stayed (in Makkah) for thirteen years, then he was commanded to migrate, so he migrated to Madinah and stayed there for ten years, then he ﷺ passed away.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی عمر مبارک چالیس سال کی ہوئی تو آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر وحی نازل ہوئی۔ اس کے بعد نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، پھر آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو ہجرت کا حکم ہوا اور آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے۔ وہاں دس سال رہے پھر آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے وفات فرمائی۔
عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، أَهْلِهِ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ۔
Aswad bin Yazid (RA) narrated that he asked Aisha (RA): ‘What did the Prophet ﷺ use to do in his house?’ She replied: ‘He ﷺ used to do household chores, i.e. serve his wives and when it was the time for the ritual prayer, he ﷺ would immediately (leave work) and go for the ritual prayer’.
اسود بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گھر کے کاموں میں مصروف رہتے تھے، یعنی اپنے گھر والوں کی خدمت کرتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو فوراً (کام چھوڑ کر) نماز کے لیے چلے جاتے۔
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا، وَلَا امْرَأَةً قَطُّ۔
Aisha (RA) said that the Messenger of Allah ﷺ neither hit any servant nor a woman.
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے نہ کبھی کسی خادم کو مارا اور نہ کبھی کسی عورت کو۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا وَلَا فَحَّاشًا وَلَا لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمَعْتِبَةِ: مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ۔
Anas bin Malik (RA) narrated that the Prophet did not call names, nor was he abusive, nor did he curse. If he was upset with anyone of us, he would say: ‘What is wrong with him, his forehead be dusted!’
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نہ گالی دیتے تھے نہ بدگو تھے اور نہ لعنت کرتے تھے۔ اگر ہم میں سے کسی پر ناراض ہوتے تو اتنا فرماتے: اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی میں خاک لگے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ إِلَى لِزْقِ جِذْعٍ وَاتَّخَذُوا لَهُ مِنْبَرًا، فَخَطَبَ عَلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِينَ النَّاقَةِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَّهُ فَسَكَنَ۔
It is narrated by Anas bin Malik (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) used to deliver the sermon while leaning against the trunk of a date palm tree. Later, the people constructed a pulpit for him. When he delivered the sermon from it, the trunk began to weep like a she-camel; it only fell silent when the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) stepped down and placed his hand upon it.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے۔ پھر لوگوں نے آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے لیے ایک منبر تیار کر دیا۔ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے، جب نبی اکرم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اتر کر اس پر ہاتھ پھیرا تب وہ چپ ہوا۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ إِلَى لِزْقِ جِذْعٍ وَاتَّخَذُوا لَهُ مِنْبَرًا، فَخَطَبَ عَلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِينَ النَّاقَةِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَّهُ فَسَكَنَ۔
Anas bin Maalik (رضی اللہ عنہ) reported that the Messenger of Allah ﷺ used to deliver sermon reclining on the trunk of a palm tree. Then people prepared a pulpit for him. When he ﷺ delivered a sermon from it, the trunk wept like the weeping of a she-camel. He ﷺ descended and stroked it, then it ceased to weep.
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کھجور کے تنے کا سہارا لے کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ پھر لوگوں نے آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے لیے ایک منبر تیار کیا۔ جب آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اس پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا تو وہ تنا اونٹنی کی طرح رونے لگا۔ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نیچے تشریف لائے اور اس پر ہاتھ پھیرا (یا اسے سہلایا)، تو اس کا رونا بند ہو گیا۔
عَنْ هَمَّامٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ كَانَ عِنْدِي أُحُدٌ ذَهَبًا لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَأْتِيَ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ لَيْسَ شَيْءٌ أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ إِلَّا أَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ۔
Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said: If I had gold equivalent to the mountain of Uhud, I would like that if I found those who would take it, before three days had passed, not a single Dinar thereof remained with me, excluding that amount that I would keep for the payment of my debts.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو مجھے یہ پسند ہوتا کہ تین دن گزرنے سے پہلے اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس باقی نہ رہے، سوائے اس رقم کے جو میں اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ لوں۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَى وَالْعَسَلَ۔
Aisha (رضی اللہ عنہا) narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to like sweet things and honey.
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میٹھی چیز اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے۔